بنگلورو 23 / دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی ہائی کورٹ کے بینچ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ زیادہ شرح سود پر رقم دینے والوں کے خلاف چھاپہ ماری اور دستاویزات ضبط کرنے کے اختیارات پولیس کو حاصل نہیں ہیں ۔
ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ گوکاک کے بسوا راج اور ذاکر نامی شخص کی اپیل پر سنایا ہے ۔ جس میں گوکاک شہری پولیس تھانے کے افسران نے قرضہ پر ماہانہ دس فیصد شرح سے سود وصول کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چھاپہ ماری کی تھی اور دستاویزات ضبط کرنے کے ساتھ عدالت میں چارج شیٹ بھی داخل کی تھی ۔
ملزمین بسواراج اور ذاکر نے اس معاملہ میں پولیس کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے ایف آئی آر اور چارج شیٹ رد کرنے کی اپیل ہائی کورٹ میں داخل کی تھی ۔ اس پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ مالی لین دین کے تعلق کرناٹکا کا جو قانون ہے اس میں صرف حکومت کی جانب سے نامزد کیے گئے افسران کو ہی سودی کاروبار کرنے والوں کے خلاف چھاپہ مارنے کا اختیار ہے ۔ اس طرح کی کارروائی کا شکار ہونے والوں کو عدالت سے رجوع ہو کر اپنے لئے راحت پانے کا اختیار ہے ۔
ہائی کورٹ نے ملزمین کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے اس معاملہ کو رد کرنے کا حکم جاری کیا ۔